پابہ گل

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - (لفظاً) دلدل میں پھنسا ہوا، (مجازاً) بے بس، عاجز و مجبور۔  صدی ہونے کو آئی بیسویں اور پابگل ہو تم تمہاری عادتیں ہیں عہد دقیانوس کی ساری      ( ١٩٣١ء، بہارستان، ٦١٧ ) ٢ - بے حس و حرکت، ساکت۔ "جن کی خوش قامتی کے سامنے سرو سہی پابگل اور جن کے رخسارِ تاباں کے مقابل آفتاب خجل ہے۔"      ( ١٩٣٠ء، اردو گلستان، ١٨٧ )

اشتقاق

فارسی زبان میں اسم 'پا' اور حرف جار 'بہ' اور اسم 'گل' سے مرکب ہے۔ اردو میں فارسی سے داخل ہوا اور بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٨٤٦ء کو "کلیاتِ آتش" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - بے حس و حرکت، ساکت۔ "جن کی خوش قامتی کے سامنے سرو سہی پابگل اور جن کے رخسارِ تاباں کے مقابل آفتاب خجل ہے۔"      ( ١٩٣٠ء، اردو گلستان، ١٨٧ )